گھریلو ملازمین کو زر خرید غلام سمجھنے والے ہو جائیں خبردار
نیا حکومتی بل:
1۔ گھروں میں کام کرنے والے افراد 8 گھنٹے سے زائد کام نہیں کریں گے
2۔ پندرہ سال سے کم عمر بچے گھروں میں کام نہیں کریں گے
3۔ ورکرز کے لیے ہفتہ وار چھٹی
4۔ حکومت کی جانب سے طے کردہ تنخواہ / دیہاڑی
5۔ خلاف ورزی کی صورت میں مالک کو 50 ہزار تک جرمانہ یا ایک ماہ قید
2۔ پندرہ سال سے کم عمر بچے گھروں میں کام نہیں کریں گے
3۔ ورکرز کے لیے ہفتہ وار چھٹی
4۔ حکومت کی جانب سے طے کردہ تنخواہ / دیہاڑی
5۔ خلاف ورزی کی صورت میں مالک کو 50 ہزار تک جرمانہ یا ایک ماہ قید
شُنید ہے کہ پنجاب اسمبلی میں گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کےلیے ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق گھروں میں کام کرنے والے مرد و خواتین یا بچوں کو ملازم نہیں کہا جائیگا ، بلکہ ان کے لیے "ورکر" کا اصطلاح کا استعمال کیا جائیگا۔ وہ ورکرز دن میں 8 گھنٹے سے زائد کام نہیں کریں گے اور ہفتے میں 1 دن عام سرکاری و غیر سرکاری ملازمین کی طرح چھٹی / وقفے سے مستفید ہو سکیں گے۔ اگر کوئی ورکر دن بھر میں آٹھ گھنٹے سے زائد کام کرتا ہے تو اس کےلیے اسکی رضامندی لازمی ہے وگرنہ وہ چاہے تو فی گھنٹہ کے حساب سے اوور ٹائم کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے۔ اسی طرح ہفتے کے 6 دنوں میں کل 48 گھنٹے بنتے ہیں لیکن کوئی بھی ورکر اپنی رضامندی سے یا اوور ٹائم لیکر 56 گھنٹے کام کرسکتا ہے۔
15 سال سے کم عمر بچوں کو قطعی طور پر گھروں میں کام کاج کےلیے نہیں رکھا جا سکے گا۔
اس قانون کے نفاذ کےلیے حکومت متعلقہ پولیس اسٹیشنز کے ساتھ مل کر ایک تقرر نامہ متعارف کروائے گی اور بل کی منظوری کے 60 دن کے اندر اندر یہ تقرر نامہ مالک کو پولیس اسٹیشن میں جمع کروانا ہو گا۔
جب بھی مالک نے ورکر کو نوکری سے فارغ کرنا ہو گا وہ کم از کم ایک ماہ پہلے ورکر کو مطلع کرنے کا پابند ہوگا اسی طرح ورکر بھی نوکری چھوڑنے سے کم از کم ایک ماہ پہلے اطلاع دینے کا پابندہ ہوگا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مالک کو ایک ماہ قید یا 10 سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے ، جبکہ ورکر کی جانب سے مالک کے خلاف جھوٹی درخواست (شکایت ) ثابت ہونے پر ورکر کو بھی 5 ہزار روپیہ جرمانہ کیا جائیگا۔
15 سال سے کم عمر بچوں کو قطعی طور پر گھروں میں کام کاج کےلیے نہیں رکھا جا سکے گا۔
اس قانون کے نفاذ کےلیے حکومت متعلقہ پولیس اسٹیشنز کے ساتھ مل کر ایک تقرر نامہ متعارف کروائے گی اور بل کی منظوری کے 60 دن کے اندر اندر یہ تقرر نامہ مالک کو پولیس اسٹیشن میں جمع کروانا ہو گا۔
جب بھی مالک نے ورکر کو نوکری سے فارغ کرنا ہو گا وہ کم از کم ایک ماہ پہلے ورکر کو مطلع کرنے کا پابند ہوگا اسی طرح ورکر بھی نوکری چھوڑنے سے کم از کم ایک ماہ پہلے اطلاع دینے کا پابندہ ہوگا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مالک کو ایک ماہ قید یا 10 سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے ، جبکہ ورکر کی جانب سے مالک کے خلاف جھوٹی درخواست (شکایت ) ثابت ہونے پر ورکر کو بھی 5 ہزار روپیہ جرمانہ کیا جائیگا۔

Comments
Post a Comment